تقلید کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں:


تقلید کی لغوی تعریف:
تقلید لغت میں ہار پہنانے کو کہتے ہیں اور اصطلاح میں تقلید کہتے ہیں کسی مجتہد کا قول اس حسن ظن پر مان لینا کہ یہ شرعی دلیل کے موافق بتائے گا اور اس سے دلیل طلب نہ کرنا۔
(اصول دین از مفتی عبد الواحد صاحب ص۱۵۴)
مجتہد کی تقلید اس کو شارع اور احکام کا بانی سمجھ کر نہیں کی جاتی، بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کو ظاہر کرنے والا سمجھ کر کی جاتی ہے۔(ایضا) 

تقلید کا ثبوت قرآن کریم سے:
1 {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لا تَعْلَمُوْنَ۔}(سورۂ نحل؛۴۳)
ترجمہ: اب اگر تمھیں اس بات کا علم نہیں ہے تو جو علم والے ہیں ان سے پوچھ لو۔
2 {اَطِیْعُوْا اﷲَ وَ اَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ۔}(سورۂ نساء: ۵۹)
ترجمہ: اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحبِ اختیار ہوں ان کی بھی۔
تقلیدکا ثبوت حدیث سے:
 ’’اِقْتَدُوْا بِالَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِیْ أَبِیْ بَکْرٍ وَّ عُمَرَ۔‘‘
(جامع الترمذی ، أبواب المناقب، باب فی مناقب أبی بکر وعمر، الرقم:۴۰۲۳)
ترجمہ: ان لوگوں کی اقتداکرنا جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر اور عمر۔
تقلیدکا ثبوت اقوالِ فقہاء سے:
’’أما العامی ومن لیس لہ أھلیۃ الاجتھاد فإنہ یلزمہ اتباع المجتھدین عند المحققین من الأصولیین۔‘‘
(الموسوعۃ الفقھیۃ ، مصطلح اتباع ، ۲/۱۵۶)
ترجمہ: جو لوگ اجتہاد کی صلاحیت نہیں رکھتے محققین کے نزدیک ان پر مجتہدین کی اتباع کرنا لازم ہے۔
ائمۂ اربعہ کی ہی تقلید کی وجہ:
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’لما اندرست المذاھب الحقۃ إلا ھذہ الأربعۃ کان اتباعھا اتباعا للسواد الأعظم والخروج عنھا خروجا عن السواد الأعظم۔‘‘
(عقد الجید فی أحکام الاجتھاد والتقلید للشاہ ولی اﷲ ، ۱/۱۴)
ترجمہ: جب حق کے مذاہب میں صرف چار ہی باقی رہ گئے تو اب ان کی اتباع کرنا گویا بڑی جماعت کی اتباع کرنا اور ان سے اختلاف کرنا گویا بڑی جماعت سے اختلاف کرنا ہے۔
n

میرا مختصر تعارف

نام: محمد اسامہ تخلص: سَرؔسَری زبان: اردو ملک: پاکستان شہر: کراچی مذہب:مسلمان مسلک: اہل السنۃ الجماعۃ مقصد: علم و ادب کا فروغ