حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی محدثانہ شان:



٭رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک ارشادہے: ’’اگر علم ثریا پر بھی ہو تو فارس کے بیٹے اس تک پہنچ جائیں گے۔‘‘(1)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے مصداق میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو بھی شامل قرار دیا ہے۔(2)
٭امام صاحب نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں بارہ لاکھ ستر ہزار(۱۲۷۰۰۰۰) سے زائد مسائل مدوّن کیے۔(3) 
٭مسعر بن کدام کہتے ہیں:
’’میں نے ابوحنیفہ کے ساتھ حدیث پڑھی، وہ ہم پر غالب آگئے، ہم نے زہد اختیار کیا تو وہ ہم میں سب سے زیادہ متقی بن گئے، ہم نے فقہ کا علم حاصل کیا تو اس میں ان کا مقام آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔‘‘(4)
٭امامِ جرح و تعدیل یحییٰ بن سعید قطان فرماتے ہیں:
’’اللہ کی قسم! ابوحنیفہ اپنے زمانے میں قرآن اور حدیث کے سب سے بڑے عالم تھے۔‘‘(5)
٭مکی بن ابراہیم نے بھی امام صاحب کو اپنے زمانے میں قرآن و حدیث کا سب سے بڑا عالم قرار دیا ہے۔(6)
٭امام حسن بن زیاد کا بیان ہے کہ امام ابوحنیفہ چار ہزار حدیثیں روایت کرتے تھے، دو ہزار حماد کی حدیثیں اور دو ہزار حدیثیںدیگر مشائخ کی۔(7)
٭جس طرح صحابہ میں حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی معلومات کی کثرت کے باوجود دیگر صحابہ کے مقابلے میں کم روایات ہیں، اسی طرح امام صاحب بھی حدیث کے بہت ماہر تھے، مگر مسائل میں زیادہ مشغول رہے۔(8)
٭جیسی احتیاط امام صاحب سے حدیث میں پائی گئی ہے کسی دوسرے سے نہیں پائی گئی۔(9)
٭امام شافعیlفرماتے ہیں: ’’بعد کے سب آنے والے قرآن و حدیث کے سمجھنے میں امام ابوحنیفہ کے عیال ہیں۔‘‘-
٭علامہ کوثری نے امام صاحب کی مسانیدِ حدیث کی تعداد اکیس بتائی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ان مسانید کو محدثین سفر و حضر میں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔(10)

حواشی:
(1)مسند أحمد، أبی ھریرۃ، الرقم:۸۱۷۰.
(2) کلمات طیبات ص:۱۶۸.
(3)البدایۃ والنھایۃ: ۱۰/۱۰۷.
(4)مناقب ابی حنیفہ ص:۲۷.
(5)محدثینِ عظام، ص:۷۶۔
(6) مقدمہ اوجز، ص:۶۰.
(7)مناقب الإمام الأعظم ۱/۹۶۔
(8)محدثینِ عظام، ص:۷۷، بحوالہ عقود الجمان.
(9)مناقب للامام از موفق ۲/۱۹۷.   -محدثینِ عظام، ص:۸۴.
(10) محدثینِ عظام، ص:۸۴ و ۸۶ بحوالۂ تأنیب الخطیب.
(یہ پورا مضمون ’’محدثین کرام اور ان کے علمی کارنامے‘‘ سے ملخص ہے۔)

n

میرا مختصر تعارف

نام: محمد اسامہ تخلص: سَرؔسَری زبان: اردو ملک: پاکستان شہر: کراچی مذہب:مسلمان مسلک: اہل السنۃ الجماعۃ مقصد: علم و ادب کا فروغ