لباس کی سنتیں اور آداب:


لباس سے متعلق ان سنتوں اور آداب کا اہتمام کرنا باعثِ اجروثواب ہے:
٭ پہنتے وقت دائیں طرف سے شروع کرنا۔(1)
٭ یہ دعا پڑھنا:
  اَلْحَمْدُ ِﷲِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ہٰذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلا قُوَّۃٍ۔(2)
٭ نیا لباس پہنتے وقت یہ دعا پڑھنا:
 اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ کَسَوْتَنِیْہِ اَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِہٖ وَخَیْرِ مَا صُنِعَ لَہْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَ شَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ۔(3)
٭ نئے کپڑے کی ایک دعا یہ بھی ہے:
 اَلْحَمْدُ ِﷲِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَاَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ۔(4)
٭  اتارتے وقت بائیں طرف سے پہل کرنا۔(5)
کچھ ضروری باتیں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے:
٭ اپنے زمانے کے صالحین کا سا لباس پہننا۔٭ لباس میں فاسقوں ، بدکاروں اور غیر مسلموں کی مشابہت سے بچنا، جیسے کالر، ٹائی وغیرہ۔  ٭ صاف ستھرا لباس پہننا۔ ٭ سفید رنگ کا پہننا۔٭ آستین گٹوں تک رکھنا۔٭ اتنا چھو ٹا ، باریک یا چست لباس نہ پہننا کہ بدن یا بدن کی بناوٹ نمایاں ہو۔ ٭  خلاف مروت لباس نہ پہننا۔٭ اتنا پرتکلف لباس نہ پہننا کہ کبر کا خیال پیدا ہوتا ہو۔٭ اپنی استعداد اور گنجائش کے لحاظ سے اتنا معمولی لباس بھی نہ پہننا کہ انگلیاں اٹھیں۔٭ لباس شہرت کے لیے نہ پہننا۔اپنے لباس کے لیے کسی رنگ کو متعین کردینا اور اسے ضروری سمجھنا بھی لباسِ شہرت میں داخل ہے۔ ٭خاص خاص مواقع جیسے جمعہ اور عیدین کی نمازوغیرہ میں اپنی حیثیت کے مطابق عمدہ لباس پہننا۔ ٭لباس میں اسراف اور فضول خرچی سے بچنا۔ 
کچھ ضروری باتیں صرف مردوں کے لیے:
٭ رسول اللہsکے لباس کی طرح یا اس سے قریب تر پہننا۔ ٭ زعفرانی رنگ کا لباس نہ پہننا۔٭ گہرے سرخ رنگ کا لباس نہ پہننا۔ ٭اصلی ریشم کا لباس نہ پہننا۔ ٭ زنانہ لباس نہ پہننا۔ ٭کالا یا سفیدعمامہ باندھنا،بطور خاص جمعے کے دن نماز میں۔ ٭ عمامہ نہ ہو تو کوئی کپڑا ہی سر پر باندھ لینا۔٭ ایسی ٹوپی پہننا جوکپڑے کی ہو، سفید ہو اور سر پر چپکی ہوئی ہو ۔ ٭ کھلے سر بازار میں نہ پھرنا۔٭ نصف پنڈلی تک شلوار یا پاجامے کو رکھنا۔٭ ٹخنوں سے نیچے نہ رکھنا۔
کچھ ضروری باتیں صرف عورتوں کے لیے:
 ٭ مردانہ لباس نہ پہننا۔ ٭ شریعت کا خیال کرتے ہوئے اپنے خاوند کا پسندیدہ لباس پہننا۔٭ ٹخنوں سے نیچے تک شلوار پہننا۔٭ اتنا باریک دوپٹا نہ پہننا کہ سر کے بال نظر آئیں۔ ٭ سونے اور چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی نہ پہننا۔(6)

حواشی:
(1)جامع الترمذی ، أبواب اللباس ، باب ما جاء فی القُمص ، الرقم:۱۸۷۲۔
(2)أبوداود، کتاب اللباس، باب مایقول إذا لبس… الرقم:۴۰۲۵۔
(3)أبوداود، کتاب اللباس، باب مایقول إذا لبس… الرقم:۴۰۲۲۔
(4)جامع الترمذی ، أبواب الدعوات ، باب مایقول إذا لبس… الرقم:۳۹۰۸۔
(5)عون المعبود ، کتاب اللباس ، باب فی الانتعال ، الرقم:۴۱۴۰ ۔
(6)ماخوذ از الموسوعۃ الفقھیۃ مصطلح تحسین، ألبسۃ وآپ کے مسائل اور ان کا حل ، ۷/۱۴۶تا۱۷۴۔

n

میرا مختصر تعارف

نام: محمد اسامہ تخلص: سَرؔسَری زبان: اردو ملک: پاکستان شہر: کراچی مذہب:مسلمان مسلک: اہل السنۃ الجماعۃ مقصد: علم و ادب کا فروغ