سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ


نام: عبداللہ
کنیت: ابوبکر
لقب:صدیق، عتیق
نسب: عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرۃ بن کعب بن لؤی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی علیہ السلام کے سسر تھے۔
فضائل و خصوصیات:
Ø   یہ وہ واحد صحابی ہیں جن کے والد، بیٹے اور پوتے سب صحابی بنے۔
Ø   مسلمانوں کے سب سے پہلے خلیفہ ہیں۔
Ø   اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے یارِ غار ہونے کا شرف انھی کو حاصل ہے۔
Ø   یہ وہ صحابی ہیں جن کے لیے صحبتِ رسول نصِ قرآنی سے ثابت ہے۔
(إِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ)
Ø   اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے:
’’اگر میں تم میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو اپنا خلیل بناتا۔‘‘
Ø   عشرۂ مبشرہ میں سب سے پہلے انھی کا نام آتا ہے۔
Ø   حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ابوبکر وہ شخص تھے جن کا نام اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے جبرئیل اور اپنے پیغمبر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ’’صدیق‘‘ رکھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں ہمارے لیے اللہ کے رسول کے قائم مقام بنے، اللہ کے رسول ہمارے دینی امور میں ابوبکر کی امامت پر راضی تھے، لہٰذا ہم اپنے دنیاوی امور میں بھی ان کی امامت پر خوش ہیں۔“
Ø   حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا: ”اللہ کے رسول کے زمانے میں لوگوں کو فتوی دینے کا کام کس کس نے سرانجام دیا ہے؟“ تو انھوں نے جواب دیا: ”میرے علم میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمررضی اللہ عنہما کے سوا کوئی نہیں۔“
Ø   اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے:
’’جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے نفع پہنچایا اتنا کسی کے مال نے نہیں۔‘‘
Ø   جب حضرت ابوبکررضي اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے، انھوں نے وہ تمام اللہ کے راستے میں خرچ کردیے، سات ایسے مسلمان غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جنھیں اللہ کے دین کی خاطر تکلیفیں پہنچائی جارہی تھیں۔
(أسد الغابۃ، باب العین ، عبداﷲ بن عثمان ،جلد۱، ص ۶۳۸إلی۶۵۱)
n

میرا مختصر تعارف

نام: محمد اسامہ تخلص: سَرؔسَری زبان: اردو ملک: پاکستان شہر: کراچی مذہب:مسلمان مسلک: اہل السنۃ الجماعۃ مقصد: علم و ادب کا فروغ